کیا ارشد شریف کی موت ایک حادثاتی قتل ہے؟
لیکن گاڑی پر گولیوں کے نشانات کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔
ان نشانات کی کہانی سننے سے پہلے آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کینیا میں چھپ کر رہنے والے ارشد شریف کی تمام حرکات و سکنات کی پاکستان میں موجود دو الگ شخصیات سے مخبری کی جا رہی تھی++
پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا۔ ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی نہیں روکی بلکہ کچے راستے سے گاڑی کو بھگانے کی کوشش کی۔ گاڑی+
وہاں کے علاقائی لوگوں اور میڈیا کے مطابق یہ حادثاتی قتل مشکوک ہے۔ ان کی پولیس کا ریکارڈ بھی کچھ خاص اچھا نہیں۔ ان کے پاس+
ارشد شریف کے ساتھیوں کے کردار مشکوک ہیں۔
اور جو سب سے دل کو لگنے والی بات ہے وہ یہ کہ ارشد شریف کو کسی مافیا نے پولیس کے ذریعے قتل کیا ہے جو کہ کینیا میں بہت آسان ہے۔ اب تحقیق اس امر کی ہونا ضروری ہے کہ اس مافیا کو ارشد++